حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا؟

حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا فرمایا وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتاعبدیالیل طائف کا سردار تھا اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے

درمیان پیس دیں یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے اس کا حال احوال پوچھتے اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور

اس کی دل جوئی کرتے عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا