توبہ کی قبولیت کی کیا علامت ہے؟




توبہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عظیم الشان مبارک فعل ہے کہ بندہ اپنے جملہ گناہوں، برائیوں اور نافرمانیوں سے شرمندہ اور تائب ہو کر اس کی بندگی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ عرفاء نے اپنے اپنے طریق پر توبہ کی مختلف شرائط بیان کی ہیں، یہ شرائط ایسی ہیں کہ جن پر پورا اترنے کے بعد توبہ کی قبولیت بفضل تعالیٰ یقینی ہو جاتی ہے۔ تاہم شریعت نے ایسی کوئی علامت یا نشانی بیان نہیں* کی جس سے انسان یقینی طور پر جان سکے کہ میری توبہ قبول ہوئی ہے یا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ* کا فیصلہ اور وہی اس کا حقیقی علم رکھتا ہے۔

حقیقت میں توبہ وہی ہے جو زبان سے ادا ہو کرقلب و روح کی گہرائیوں میں اتر جائے اور بندے کی باقی ماندہ زندگی کے ماہ و سال کی کایا پلٹ کر رکھ دے۔ حقیقی توبہ کے باعث تائب کی تمام لغزشیں، کوتاہیاں اور تمام گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ یوں مٹ جاتے ہیں جیسے وہ ابھی ماں کے بطن سے نومولود بچے کی طرح معصوم پیدا ہوا ہو۔ عمومی طور پر توبہ کی شرائط درج ذیل ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان سچی توبہ کی برکات سے دائمی طور پر مستفیض ہو سکتا ہے:

ندامت و شرمندگی
ترکِ گناہ و معصیت
توبہ پر پختہ رہنے کا عزم
اصلاحِ احوال
اخلاص