اگر پانی لگنے سے بیماری کا خدشہ ہو تو وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

اگر کسی شخص کے لیے پانی کا استعمال ممکن نہ ہوکہ بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو یا پھر جان بھی جاسکتی ہو تو ایسی صورتوں میں مریض طہارت کے لیے پانی استعمال نہ کرے بلکہ تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ.

اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔

الْمَآئِدَة، 5: 6

حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ:

أَصَابَ رَجُلاً جُرْحٌ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ احْتَلَمَ فَأُمِرَ بِالاِغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِىِّ السُّؤَالَ.

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک آدمی کو زخم پہنچا پھر اُسے احتلام ہو گیا تو اُسے غسل کرنے کا حکم دیاگیا۔ اُس نے غسل کیا تو فوت ہو گیا۔ جب یہ بات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُسے قتل کر دیا گیا، اﷲ اُنہیں مارے، کیا معلوم کر لینا بے خبری کا علاج نہیں ہے؟

أحمد بن حنبل، المسند، 1: 130، رقم: 3057، مصر: مؤسسة قرطبة
أبو داود، السنن، كتاب الطهارة، ، باب في المجروح يتيمم، 1: 93، رقم: 337، بیروت: دار الفکر
مذکورہ بالا تصریحات پر قیاس کرتے ہوئے آپ مستند ڈاکٹر کی رائے کے مطابق نہا کر دواء استعمال کر لیں اور ساتھ ہی نماز ادا کریں۔ جب نہانا ممکن نہ ہو تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مفتی: محمد شبیر قادری